220 سلہل عون م٦٦‏ لا ََشة اِلَا المطَوْرُونَ ان لکوغیرالش سے پاک ذبنوں کےسواکوٹ یہی ں کپ سکتا

وَمَنْ لُميَعْکُمْ بمَا انْزّل الله ولیک ھُمُ الْکْفِرُوُنو

اورجوالللد کے نائز ل۷ردہ کے مطااقی فیصلہ ہکم میں یں نیقی دای ای کا ا نکارکر نے دانے ہیں 5/44

علال وٴ عام رآ نکی ری یس

٦0:/6560081ئ13009‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علال ؛ۃا م قرآ نکی ری میں 221

7٢مٔیج ہسم اللہ ار حطٰن الو‎ ٢ علال و ام ے موضوع 4 بات کرنے سے پل اک نج زان میں رتا ضروری ہے۔علال و ام کے پارے‎ غیر اللہ کی بات کوگی متام یں رکھتی کول الد ۱۶م یں اللہ کے سوا کوگی اتھارٹی خڑی ویۓے کا‎ مجاز نیس پیلہ ان الفاظ کا لغائی شجزیہ بپھرقرآنی عدود بس علّت و مت کا تین کیا جاۓ گا۔‎ امحلال:حللء کا ح ںیل سہ ح نی جیادی مادہ سے حل* کے می گمرہ کھو لے بل ہونے سے ہیں۔ اس‎ ےی ان نے کے بھی ہیں۔س گے مہ قوم کی حول با رپئنش گا, کے طور پر استعال ہوتا ے۔الجلی مم‎ کا عددد سے باہرکی مرکو کے ہیں.معل کےعی واجب ہو جائکگھی ہوتے ہیں۔اس طرع الحلالء الحرام‎ کی ضدہے۔الال اڑی یز ےجس پر رکاوٹککرہ نہ ہویھی یز جس کی عد بندی نہ کی گئی ہو۔‎ خَرِیما وَجوْمانا اں سے سی کوروک‎ ٠ الحرام: ح رم سترل فیاد مادہ ے۔حَرَه الطً٘یٰ‎ لینا۔اس لے کو اس کک کے نہ دینا۔ابذا اس کے بیادی صعتی شدت کے ساتھ روک دیے پاعمالمحعت گر‎ دینے کے ہیں۔الھرام جن کی مافعتکر دی گنی ہے گویایہ علالکی ضد ے۔آَحْرَمَ الْحاجج آدی اں عاات‎ یش کیچ گیا سے جہاں اس پکئی اڑی زی نوع ہو گی ہیں جنمیں وہ پطہ کر سنا تھا۔اڑی حالت کو‎ حاات, انام بھی تتے ہیں۔ا ریم ہرنوں کی ہوئی نز ۔ایام جالیت میں ان سکپڑوںکو کے تھے نہیں وہ‎ کعہ کے پپگر لات وقتأجار دراکرتے تے اور گے ہو جاتے تھے نی ان کپٹروں کا پہننا ھنوع تھا۔‎ ذکودہ الا لفائی تع نشی نے کے بعد علالل و حام کے بادے انی رائے دینے سے پ لہ الد کی کاب‎ سے کم از کم ہہ معلوم کر لیں کہ کیا اس مہ میں جاری ذائی رائے کوگی مقام رصن ہے؟ اییا تہ ہو‎ کہ اپنی ند اور ناپندو معیار بنا کر الی عدود سے جچاوزکر رسے ہو ںآ یت 5/87,88 يَيَا الَدِیْنَ‎ امَسُوْالا تُعرْمُوْا طَیتِ تا اَحَلٌ الله لكُمْ وا تَشَدُوا ا الله ا یب الْمغَِینَ چ وَکُلُر مِمَرَزفکُمْ‎ الله عَللاًطَیيَ ”وَاتَقُو الله الّذِىَ انم بہ مُوْمُونَ چا اے ایھان دالوائم ال پراگردہ موزوں چچڑو ںہ تام‎ کرو جن کو الد نے تتمہارے لے علال قرار دی ہوم عرود ےتچاوز درو یق الد عرے بڑۓۓ والوں کو‎ پنزیسکرتا۔87 اورون شمتوں میں سے علال جوموزوں ہوکھا جو الڈن ہیں عطاکیا ے۔اور الد کی نافرالی‎ سے پیج سکو تم حا مات ہو۔5/88 نیت کا معن وہ چیزے جھ انان کےہاس ژژ سکیل لذت یاب ہو۔د یہ‎ ضننےہ سوگھنے اورکھانے میں پندیدہ ہو۔انمانی عزاع کیل عجھیکیف اندوز ہو۔یہ ہرز نمی ںک ای کآدی اپے عزاح‎ کے فھاظط سےایک کو طیب نپا و وہ اسے عام قراردے دے عالاکمہ دوسا آدٹی اأسےاپے لے طتیب پاتا‎ سے علت و عمت کا قرآنی علیہ بی ہہ ہر بیز علال سے بز ان کے جن کو قرآن عام قرار دیتا ے۔‎

٦0:/6560081ئ1300‎ اطا٥ود٤‎ ہ٥.‎ ٥/

علای و7 م ق رآ نکی رڈکنی میں 22 تاپ الام وا با فی الازض خلا ظا کر ولا نَا کات الشیطن شال کم عذ من چم ترجمہ اے لوکوا زین میں جھ چھوٹھی سے وس میں سے علال جو ہیں اچھا گے کا حیطان کی ت ریو کی اتجاع نہ کرو یقین ہا راقرآ نکی وج ےلفارشن ہے۔2/1468 حا سا2168 : م رب سی ہے ۔علالکی عفت طیب ہے۔ادر ہا طیب کےعنی موزوں اور پن رکیل جایں گے۔اس سےمعلوم ہوا ہےک۔علال نر طب تھی ہے۔اود 21 7 ہے زین میں ےکھا کر برعلال ہو اورتہاری مت اورُہارے مزا حکیلئ مزوں ہے دن فطرت ہے۔مخاہرے سے مہ بات غابت ےل ہ اک ےس یکیصحت اورعزاى کیلع موزوں اور وی ۓ دوسر ےکیلنے نیم موزوں ہوئی ہاور اس کے عرا جع کےغلاف ہوئی ہے۔ اگ چعلال موی گر اے ناپنرہولی ہے۔اگر علال کےہاتھ طیبکا لفظ نآ تا نو ہر علا لکھانا پڑتا اور نکھان ےکی صورت می ںکفر لازم 7۔اللہ نے ہہ سبوات دگا ےکم ہرفرداپٹیعن پینداو رح کیل موزوں خورا ککا انتا بکرے اوراپٹی ناپپند دوسروں پتام آرار نہ دے۔پڑا ہر علا لکوکھانا فرن یں سےاور اپٹی ناپبند علال کو ام قرار دینا جائزگڑیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہواککوگی فرد اپنیلپنداور نالپند بعلت و حمت کا فا یں درےکا اور نہ بی ہر علال کسی کو مجبورکیا جا سنا سے کہ وہ ضردر کھاے۔اس معالریس نہ الکی طرف ےکوگی ججر سے اود نیدی انان کی رف سےےوگی چجر ہونا چا یلیب کا مطلب دانع ےکی فردکا پندیا ناپند ہونا علت وعرمت کےیمنہ میں حرف آخر نیں ے۔اور 2 یی زی 090 ا ند ید علت زتزض تک رف لگا دیج ر7 بے زان کے ھی سے فرما دیا ے۔وَلا تَقُوْلُوْا لِم تصٍف الْيْنكُمْ الّكوِبَ ھذًا حَلل وَهٰذًا حَرَامٗ لَفْمَرُْا عَلی الله الكذبَ ۶ن الَدِینَ شون لی اللہ الکذب لا حون پچ تم اپکی زبانوں (خربروںکتاہوں) می بھوٹ بیان کہ ہے علال ہے اور بیترام ہے۔تاکہ تم اللدپیجھو ٹگھڑہ۔یقیناجھ اللدپیجھوٹ گھڑتے ہیں۔دہ فلا نی پاکیں گے-16/116 انمانوںکی ططرف سے علال و حرام کی جھ فری٘ٹں ھب ہی ںکہیہ علال اودیہ عام ہے۔آییت نے افڑااورلذب ترار دا ہے۔یہ لو گ فلا سے محردم قرار دیے مے ہیں عید ا لدارشاد فرہاتے ہیں-فُلْ اَرَة یم مَاتولَ الله موی رَريِفمَعََُه عَرَماؤعلل کل الله اور لكُم ا لی اللہنََرُ هر ايل رو لی اللہ کب يَوٌْ الیم اع الله لکل کی الس ز لو کہم لا کرو ہچ ِن اقم ذدا تا تق بی ج ہیی امشدنےتہارے لے رز باز لکاے۔ پھر تم نے سکو خود ہیعام و علال بنا لیاہے۔ان سے بیو کیا انشدنے ت موم دیا ھا یا تم‌الل یر اف یکررہے ؟59جھ لوگ الپ اخخڑی باندحتے ہیں وہ قیامت کے ون پر لقن میں رکھت۔ یقینا ال نذلوگوں پرب یل وائے ہیں لککشن و نکی ریت میا تک ٹیس مانق۔10/80 آیت دائ ےا علت وقیمتکا پیانہ نان ےک یکو قلعا اجازت نپیں ہے۔ جویھی ابی ل کا مرکب ے۔دواللد پر اڑا پاندھ رہاے'عور؟ الانعامآی تل ر138 آی تل ر144 مش ری نکی خود ساختد ھا مکی ہوگی وکا جیان ہے۔لاظفراۓے۔

٦0:/65008ئ۱3٦09‎ .اطاو٥و:٤.٥/‎

علال :نام ق رآ نکی ری میں 23 لغم رٹ حِخ رك لَابَكعثَالامن تمہ زیم وَ خُر مُهُورْا وَلقملا يدکُروم ام اَی افِْرَاءٗ عَليْهِ ہو کو رھ سس دُکُورِنا وَمُعَرَمْ غَلی اَوَاجنا٤و‏ إِن یکن مَیَْة فَهْ کم رکا خرن رَصْلَهُم ٭رة عَکَيْو عَلْم فی پھ, فَي لین قَرَا اعم مَفهَالِر لم وََرُّوْا ما رََقهُم الله ايْرَآء عَلی اللِٰ”فَڈ صَلوْا وَمَا کَالُوا ٦‏ فو وَهُوالَِؿاََمَا عَلتٍ مغرزب و عَيْرَمَفرُزَهٰبٍ لعل وَالوَزعَ مُعْعَِفا اك وَالزْوَ وَالرّمنَ مَُدَابهَا وَغَیْر مُمَشَابهِ٭كُلوْامِن قَمَرٰة اِ٤َآالمرَو‏ الُوَاعَلَه یَومَ عضاد زار لزا'ِا لب شر زین الغام عزلة رف زا زم اللزل نز رت الین ٴإِنَه لكُمْ عَذرٌ ٠‏ اق تمییة اروا جن السأن الَيِْ وَمنَ المَمر الین ”قُلْ٥َالُکرینِ‏ حَرُمَ آم الْلْن آنا اشْحمَلَث عَليْهِ ارام الین * وی بولم اِْ کنتَمْ دنچ وَمِنَ الابلِ ان وَِنَاليقَر الیْ* ُء رین عو 1 الین اَمَااهْتَمَلّتُ لہ ارام الین ام کم مُهَدَاءَِذ وَضْنکُمْ الله پهذا ٤‏ فَمَنْاَظُلَمْبءٗ مِمن اتی َلَی الله کَدِبَلیْضِلُ لاس بقَْ عم اِنَّ الله يَھُدی لْقوُمْ لظْلِمیْنَ 65 7ج: اوروہ اپ اطل خالکی ہرے ا ہی ںکہ بی جاندراوریقی منوع ہے۔ ا نکوکوئی نی ںکھاہ ےامھر جسے ہم جاہیں کے پچ جانور ہیں ا نکی پشت لج سواریی تام کرد یگئی ہے پھ جانور ہیں ج نکو الد کے تانون کے مطابن می کی کیاجاتا۔ یتال براف کیاہے۔دہ ا نکو مزادےگااں کی جودہ اٹل بیکرت ہیں۔138 اودردہ کے ہی ںک جو ان جاندروں کے یں یس ہے دہ بمارےمردوں کے لے ناس سے اور ہار ئودقوں پرترام ہے۔او راگ رمراہواہ وق راس یس سب شر کیک ہیں۔اللد ا نکا ان کا مو ںکی سا دےےا-قیاً ہی یقت کرو ہگعم ےلیم ہے۔139ضمارے میں پڑ نے دولوکجنہوں نے اپنی اولاوکو ندال اور ھی می ہن لکر دیا۔ اورتراممکردیا ان سکوجھ النے نک دیا تھا خودساختممتکافیصلہالل پر افنز کی ہے۔دمگراہ ہو گے اوردہ ہرایت یافۃ یں ہیں۔ 140 اور دی ذات ےجس نے چھتزری وانے اوریغی یھت کی وانے او یمور کے بامات پیدا گے ہیں اورھتیاں ھی۔ ون سب ک ےگ لخلف ہیں اور زیتون اورانار کے بانات ہیں یلت ہتقی خحصوصیات اورا نک ال بھی ہیں۔ ان ک کیل ما جب دہئپل دی ہیں اوری لک چنائی کے وقت اکا تن بھی ادا کرو حم عددل کر کے زیادن کرو لے یقیااشزیادلّ کرنے والو ںکو پپن یی سکرتا۔ 141 اورکچھوٹے چافورادر بڑے جن پرسوارٹیکی جائی ہے۔س بکھا اس میں سے جو انکر نے ت مکودہاہے۔اورشیطان (حاخین قرآن کین بیو ںک اتاع شکرو۔ یقن دوضہاراکھلا وشن ہے 142 جانورو ںکی کہ تی ئحقی 00000000000200 ویّوں ادیاں یا دو جودومادییں کےرموں میں سے ؟ ہج عم وتی کےمطابقی با2 اگرقم تج ہو۔143 دہ أونوں یں سے ہیں اور دوگ تیوں یس سے ہیں۔پٹچھو الشدنے دوفمترام کے ہیں با ددمادیاں یا دوجودہ مادیوں کے رتھوں میس ہے ؟کیا تم حاضرجے جس وقت اون ان کےا مرن کا عم دیا تھا۔ یں اس سے زیادہ کون ہوسکتا ے جو الد پریچھوٹ پاندھتا ہو کہ دوگراہکرےلوگوں کو بغیر عم وٹی کے۔ یقیۃ اللد ایے ‏ الموں (5/48 )کو ہرایت نیس دہاکتا-144

٦0:/650081ئ13009‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علال وترا م ق رآ نکی رشنی بش 224

8 ات میں مشرکلا نکی خود ساختما مکی ہولی چیزوں کا عیان ہے۔ان مشرکین کے ہاں بیعلال وترام ورا ا پلاآرہا تھا جپشل 3 ہم پڑت پڑنی تھا۔6/145 آبیت شس بڑے دانع او ریلم انداز میں ان ار چیزو ںکی مت کا ذکر ہے۔ وی شدہ لمات ملاحظہ فرمایے ۔ارشادہوتا ے۔-قُل لا اَجذفیٰ ما اوج اِلَیٌ مُعَرما لی طا عم بُعَم لا انْ وم مَيَْةََؤ ما مسْفُو ما اؤلَحم حِْريْرِفله' نجس“ او ِسفااِلْلقَْرِ الله يہ عفمَن اضْطُرعَيْرَبَا ولا ا فان رک فور ریم۷٥٥‏ 6/145 تہج حمہ:اے داگی قرآن اعلا نکر دوکہ جو یھ می ری طرف دگ یک جا ہے۔ میں اں مم کوئی بج یکھانے دانے پرترام کمیں پاتا ہوںکہ وہ أےکھاتا گر ۰2 ہو مردار پا پپتا ہوا اہو ہو با خر کاگوشت ہو یں نقینا بیگی نُرائی سے اورنا فان ےکی نے کےذریجتے بھی خیراللدکو بلندکیاجاے۔ یں جو مور ہے بای ہےاورنہ دہ عد ےگزرنے والا ہے وہ ا نترام چیزو ںکوکھ یکھاسکنا ہے یں یقن تا رب ذخخورسہے رتیم ے-45 ۹ال ورام میں انی دا اورک مآبیت کے بح راہ کٹ رآن یں علال وقرا ینیل یں ہے ہف ران سے راف ہف کرد دج یھ میرک طرف وت یک جانی ےس یمام صرف می چار ری یں-6/144۲6/138 آیات میں نشرکی نکا خووساختد عرام تھ۔اس میں صرف جانوردینئیس ب یگ چھی تام کیا ہو ھا سید یہودییں نے جھ اپنے او یرتا مہ رایاتھا ماظفرائۓ وَعلی الَِّیَْ مَادُواحَرَنَا کل ذِیٔ طُفرٍوَمِنْ القَر الم حَرَنَاعلَيهِمْ مُحْومَهْمَا لا مَاحَملنظهؤرمْما آرِالعَوا2ااؤا ال بفظم* ذلک جَزيهم بَمهغ 7 انا لعيفو نپ اور ببودیوں برہمےملہ آ ور پنے والے چافورترام پاۓ تے۔اورگاے او ربھیٹبکربیوں یس سے ا نکی جچ بی ترام پاگیگرجھ ا نک پشت پراورانتڑبوں پ اور پڈڑیوں کےساتھکگی ہوئ یی تام شنیا۔ بی نے ا نکی بغادتکی بجہےاأ نو سزادیی ۔اور یقن ممیت ژں-6/146 0 تم ے قَبُلم وی الین مَافُؤا عَرََا كَلَيَهِم طَب أجِلّٹ لم وَِصَدَِم عَن سَبیلِ الله کییڑا لہ تمہ : یں ہودییں کےں مکی وجرسےاوریہت زیادہ اللدکی راوس دوک نکی وج سے نے ان پر بہتک انی چچزوں کوترام پایا جو نکیلیے علا لکیگئھیں-4/160.. 13/93 یت ٹں ے کل الطْغام کَانٗ جا لی اِسْرَآو یُلالامَا حَوٌمَ اِسْرَاء یْلُ علی تفم مِن قبْلِ اَْ ثول الوْرائة“ قُل فَانوا بالتوْرئة فَانْلوْهَا إِنْ كُنُمْ صيقْنَ 78 جمے: سککھانا جوق رآن یں علالل ہے ووبتی اس رائیل گی علال تھایگ مجھاسرا یل (یقوب ملاع علیہ نے اپنے اوہہ نزولي رات سے پیل خوددی را مکرلیاتھا۔(وہ الیل کا تا مکردہنتھا ان ےبد فذرات فو نکر21 جو اسرائل پہ نازل ہہولیھی۔ پھر ا کی عطاو تکرداگرقم ان قول یش تچ ہو الطّعام 3/93 : مب اضانی ے۔یہاں کل سے عراد قرآ نکی علال شدہ زی ہیں۔لام تحریف چا ڑکا ہے۔(1)لام الجہدایارگی: ہج سکو شلھم اور فخاطب دوفوں جاتۓے ہوں لام الد افاری ہوتا ہے(٣)لامال‏ دا زونی: ہج سکو صرح لم بی جامتا ہو اور خخاطب کے مم میں نہ ہو لام الپر النڑٹی ہوتا ہے۔(3) لام ائٹس :وخول 1 ری یٹ متصور ہو لام اٹ سکزاج ہے .ئن جن انثا نہیں ہوتا۔(40 )لاملا ستفراق:مرخول کے تام افراد کی امام شحم کے ذن میس ہوٹی ہے۔اس میں اتشاء ہوا ہے۔

٦0:/65 00815۱3٦09 .اطا٥ود٤ہ.٥/‎

علال :نام ق رآ نکی رشی میں 25 ٠‏ لام الد افارگی سے ٹر آن کے علال طعام کے پارے ای( شلم)اور خاطب۔(انسان) دونول جا نۓ ہیں ۔ اذا بیہاں تق رآنی علال طعامکی بات ےکہ یہ جا اسرائیل پہ علال تھا۔اسرائمل نی نے کرات کے فزول سے پیل أد اس نے خدپاندی گا لی وہ وگیشدہ پاندیق ہیی _اپڑا علال و2ام شیک ذائیٰ پند اور نا پندکا نل نیس ہوتا جاسے دہ نی ىیکیوں نہ ہو۔اوداگرقم ےکوی ثابتکرٹی ہو دہ نذرات کے ذرہیے ثابت کرو فذرات نل ےک21 حالاكک فو رات تو مھہلی ےبھی پپیلحرف ہوچچگیاھی نذوہ اص لکہاں سے لات یلاع “علی نے فر مایا علا لکرو ںگا جو ڈگ یتم نے اپے اد نام ٹریا ہے۔3/50 اسر ات لک ذانی پنراور ناپتىعلال و تام بش سندیں ہق ران نے اطلاع فرا مکی ہےکیش رن نے ج سکھانے پہ پابنینییس لگاکی دوس بکھانے بن اسر ایل پرعلال تے۔ کل کا مطلب مان ےآزاو ہونائیں ےکولش رس ٹر سےایک ے-42/13 ارشاد 0 ےو "تقو فُوافِ کساس شرلجت سے الکن جا ۔ کل الطکعام سے مرادق رآ ن کاعلال طعام ہے۔اسی رع لہ سیا سے لے اؾیث من کل ضى بے آیانذاں ےم رادہر ےکی بللہ ا سکی ضرورتکی ہرنے عاد ہے۔ یہاں اع يکتاب ےرات لان کا مطالبہ بڑا ہی اہم ہے۔نازل شدہکتاب لان کا مطالبہ بڑکیکڑو گی سے جوکوک یبھیکیں گتا۔ سی مسلم ےھ اگ کہ د دق رآن لاو نے بات رآن ٤١ے‏ ثاب تکردو پھاگ جات ہیں ۔ارشادداٰیٰ ے- ثمُه ارسلنا رسلنانترا 23/44 نے اپنے رسولوںکو نات سے با ہے۔ آن کےساتھ ای ککتاب بھی لازم کی ہے۔ایائیی نہیں ہوا ۲ رسالت ٴاڑے ثابت ے اذ اتا بک ضرورت' عاں ہے مجرسول ال کیلئے اشاد ےکتمارے لئ دین کا دی راستہ ےجس کا فوں ملاع علی لیم دیاگیا تھا ج٘ کا بم نے ابراویمء موی اوس یکو ھ یم دا تام اس دبین می فرقی شک نا پ۲ سو ات میں کک وش کیکفاک نیس جھ ال کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔أس فوات رشح کاب کے ذریچ ایک بائیٹ بارباردہبرایا جانا ہے۔ جب اللددی تق کوتتاب کے بخیرٹپیشیئی ںکرنا فو یک بھی مخ تاب کے اتی ندب لکرنا چائنٹئیں ہے ۔اگریکم او تق لکی دنا میں و اتکی ذرا سیپھیکنائش ہوئی تذ رکا فروں کا ہی دی ن جیا ہوتا ۔کیون دہ تاب الل کے اٹ اپنے باپ داداک نات د یکو معتجر مات تھ۔اگردی نکی تفاطت کاذرایہلوگو ںکاممل ات ہوتا قکافروں کم تو اترکا ردق ہآ نی صور تھی نکرتا۔ پا رق رآ نگھ یککتکی ضردرت رتی۔ بیگھی توانر ےزبا یہ اغیر کتاب کےسیبنہ بہ سبنہ مک کک جاتا۔اگ رق رن کے معال میس ایبا نیس ہوا قویہ حقیقت ےکہ بزدگوں کے وا کی دین میںکوگی حشیتئیس سے تق رآ ن ام يکتاب سے وی شدہ نرات لانے کا مطالبکرتا ےکہ ہے بڑھ کر سنا2۔اگریسلمانوں سے کوگی بھی مطالبکرے کہ قرآن نے کر آ3 اور صرف یہ پڑکرسناؤ۔بہ اکا تنا ے کیونکہ قرآ نتاب کے ایر بات کرنے والوں کو بش سے خار خکرتا ےآت ری مسلمہ بھی قرآن ےراہ فرار اخقیار کر پچگی سے اور سند ات سے۔اب شی س “علیہ کی بشت کا مقصدیی بی بتایاگیا ۔ و مضةم لم بن من الو زَلأجل لم غض الد غرم عليکُم ‏ جنکم با نزک“ ذو َّنِإ ٥/‏ .٥ہ‏ ٤:و٥اطا.‏ ۱3009ئ0:/6560081٦‏

علال ؛ۃا م قرآ نکی ری میں 226 تھچ : یقیا میٹ تقد کرنے والا ہوں ا سکی جو جھ سے پیہ فذرات مس تھا اور وس لے میں علالکروں گا ج کی تم نے اپنے اوپبترام تہرایا ہے۔اور یں تمہارے لے تہارے ر بکاطرف سے ایگ ضطابطہ حیات لایا ہیں ۔ لی تم الکی نافالی سے ہے جا اورمیری اطاع تکرو۔50 بیہودیوں نی سلاع علیکی مخالشتکی تی۔ ا نکی باتک نہ مانا۔ج بکیشیلی لام “علیہ اعلا کرد ہے ہی ںکعلا لکروںگا جو تم خود ساخند ھا ھب راتے ہو ۔ یی ات اق رآ ئھرسول الل کے بارےفر مات ہے۔لاحظ فرب ايے لئ عون الرَمُوُل اَی ای الِیٔ يَجِدَٰه مکُّب عِنهُمْ فی ال وَلانُِْل مم ٴبلمرُؤفِ وََههُم غن المنگر ویج لهم الکِتِ وَبعرمهُلَيهم الک وََسَمََهُمِصرمُمْ َالافُلل لی اث عَليْهم ٭فالدیَ نوا ہہ َعَرُوٰۃ وَنصَرَ ولک الزر لی بل نع" يک مم لِغرن ّ۶ اتا غکرتے ہیں رسو لکی جو نی ام القریکارنے والاہے۔ج کو دداپنے ہاں قذرات اورائیل ممرکھا ہواپاتے شیں(61/6)۔ کہ وہ ا نک محرو ف کا معمدے گا اورگرات سے روک گا اورطببات ان کے لئے علالی اور شراحٹ کو ان پہ تام کرے گا۔اور اُن ے خووساختۃ پائریوں کے اوھ اور ۳۲۴ الد 1 خلائی کے پڑڈے ہوۓ طوقی أمارے گ۔ لپ جو لوک اس پر ایمان لائیں گے اور سکی حایتکر یں کےاورا سکی ممدکریی کے جن اہا ریس گے اس فور(قرآن )کی جھ اس کےساتھ ناز لکیاگیا۔صرف بی لوک فلا پانے دالے یں 7/157۔ 6/148 آیت پہ "۶ھ ہھ جا ئگ اکنکھانے والی چزوں م۲ںصرف چار چزوں کے علادہکوئی شعرمت کی رست شی ںآنی۔اعلان ےج پٹجومیری رف وگ کیاگیاےاس میں ان جار چچززدں کے علادہ کول یکھانے والی چزء یں عمام خی پان ہوں۔اب پانچمیں چےکامام کا فبرستہمش داغلیلنوغ ہے ازم نی سلام علیہ اییا بیان نیل دے سلتۓ ج وگی سے مان ہو۔برعال دسرے لوگوں کے پارےکہا جا سک کہ أنہوں نے اپنی پنراور ناپندکی بیاد پترام وعلا لک فرست تتیب دےکرأ سے ھی س لام “علیہ کے مات مغسو بکردیا ہے۔جی کہ 6/146 اور 4/160 آیات ببودبیں نے پچ نی خود اپی پپندادرناپندکی ہنیادپہترامپشہ را لی تحیں_ جج نکو یی لام علیرنے علا لکیا تھا_اپزا ای نظ رعلال وترام میں فتھاکا اختلافنغیم القرآن جلدنم را صلف ر592 ازمودودی صاحبحاشیہ پلاٹنہ ر121 مماظہ فرہایے۔ چنداققامات قیشل غدمت ہیں۔(1) بی چار چ یمام ہیں اور ان کےسوا ہرچچیکھانا جانئڑے۔ می ملک عبراللد ان عباس اورعائکٹڑکا تھا (2) حا وعرمت میں فقما کے درمیان اختلاف ہوا ےش پال ور ےل امام ابو عیذ امام مالک اود امام شافتی عرامقرار دی میںگرشجنش ودوسرے رام نمی ںکیتے۔ (3)درندہہ شکاری اور مردار خور حیوانا تکوضنفہ ملظ مرام قراردینے ہیں۔ الک اوراوزاگی کے نزدیک ہھکارکی پرندے علال ہیں ۔لیثٹ کے نزدیک بی عدال ہے۔شافقی کے نز دیک درندے شر چیّااور گڑیا جرانہان پہملرکرتے ہیں ترام ہیں رم کے نزدیک کڑا اور تو علال ے۔(4) ان دلال پگ رکرنے سے بے بات صافععوم ہوٹی سے ودراصل شرلعت لی مرضی ۶وت اأُن ار ہی چزوںکی سجن کا ذکرقرآن مس کیاگیاہے۔(5)اور اس طرح شریی کی کہ بیتق غیں دپچکہ وہ اٹ

٦0:/6560081ئ۱3009‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علالی وا م ق رآ نکی ری بش 227 کراہت کوقانون قرار دے اور ان لوگوں پر الزام عائکدکرے جو اڑیی نخزائھیں استعا لکرت ہیں جنھیں وہ نا پنرکرے ہیں بتہ تضعیل تفبیم التررآن ےخود مطائیکریں عوام کے لے خور طلب نقظطہ پ کہ تھاطمی کی موجدی میں فتہا کا اخلاف اس دارو_۔ چپ رین کی 72 آ یٹ ے بات عام م۶ ہے 12 ان‌چار چزوں کے علادہ کوگی تام نی ہے۔بہ بات ایک بی بھی ججھ جانا سے کہ اگر کوئی اأسے سی کہ بنا اھر ان چار کھلوٹوں ے علاوہ 2 سپ کھلوۓے لے سج ہولن یں ے کہ الڑی ے بات ہے تنم فرون آو نون کی سح نشین تی ےر ان کیا اتا غكکرنے والو ںکوچاہےکہ فقپاے اخلا نی چکروں میں نہ پڑیں ن کا اخلاف أُنپیں کک ربے دی اور اعلان کمریںک_ئیں قرآن ىی بَا جہے۔16/115 یل ان چار چچزوںکی حت ہے بعد فرمایالہ تہاری تقرروں پاتہاری اتھوں کی کسی ہوئی رروں کو یہ تق ٹمیں چنا کہ دہع ہے کےبارے کہیں کہ ام ہے اود سے علال ہےمتمام د علال لیالٹ بنانے کا افخخیار ال لپن شی ی کی گیں دیا۔16/1168یل ے کپ ال رو افریے۔ ال کے عالل و تام کے فوے میں اپنیاراۓ دی وائے بھی بھی فلا نہیں ای“ کے۔ان آیاتدے لئل وا ہوچاتا ےہ علال و حرام مس الڈی کو مراخلت کی اجازت یں دیا_لّمَا حضریے کہ سے ساتھ اشاو رثا لی ے۔ اِنَمَا عَوَمَعَلَيْكُم الم وَالُمَ وَلحْمَ الْخنْرِیْرِ وَمَاأِل به ِعَيْرِالله 2/173:۔وقیا أں نے تم پمردار اوربہتاخون اور خر کاگوشت اورشس نے سے غیر الل کی ان کے بلند کیا جائۓ حرام قرار دا ہے۔النے2/173 آبیت میس انھا کے حرپاکنہکے ساتھچار چزو ںکی مت کا کیا ج- (ا)الْمیْعَةٌ (ب)الاُم (پ)لخم الّحنزِیْرٍ رر ر(تہما ال ب بہ ِغِيْر اللهِ اد اَلميَْة .8/3 ایت میس اللنے مردارکی اقسام بتا دی ہیں۔(1)جوگلہ گمٹکرمرجائۓ(2)چوٹ لک مرنے دالا(3 )گر کر ھرنے داا(4)سپین کلک کر نے والا(5)ھ درندہ مرا ہوا ھوڑے_ ان عالات مد بھی مرنے سے پلہ اگر وع کر لو قوکھا ھت ہو الد کی تتعیل ے۔

ب لک مَ .6/145 میں دَما مَسْفوھا أمچلتا ہوا ابدہے جوذ حکرتے وقت جانورش سےفوار ےکی طرح ہہ جانا ہب بہتا ہوا خون النے ۃام ترار دیا ے۔

ب‌لَحُم الٰنزِیر ۔ یعرب اضائی ہے نز جانورکاگوشت عراد ہے۔یہ دبا ہجرد ہے سرن زادگ مادہ ہے۔ الخنزیرجانوروں کا ا یئن ہے۔ ہج سکو اللہ ما قرار دباہے گلا مڑاگوشت اس لے ترجمہ اط کہ عرکب فومینی کا قریند موجوفکی سک یم کرکیس پیگوشتکی عفت گا مڑا ہونا ہے ندود کے لے رود کا لفظ پا خحنزیر الانعام جانورو ںک مدودلآنا چایے۔ابذا بیہاں خڑے کا گوشت ورست تھے چو جالور جا ام ےد

٦0:/650081ئ۱3009‎ اطا٥و٤‎ ہ٥.‎ ٥/

علال ونم خ رآ نکی رڈکنی یش 28 تمَا ال ه لغب الله .جس نے لوکھی خیرالدی بلندی کیل دیا جائۓ حرام ہے۔اس مم اجاتہ بمادات اور جوانات پرچچزشائل ہے۔2/168 یس لا کاعلم حاجات سے شرو ہوا اورجھبٹجنگی زین شس پیدا ہوتا سے اسے کھان اعم ہے۔اس میں جمادام تچھ یآ چاٹں ہی ںکیونک ووگھی زشن ہی سے پیدا ہہوئی ہیں مک اور چھکڑی جمادات ہیں جو کھا رے ہیں کسی نے لویھی نیبرادڈی بلند یکیلئ یں دیا چا ستا بیتزام ہے۔عحرف اللہ کے نام پر اور الد کانام بلندکرنے کیل جان اودمال خر کرنےکا عم ے۔ زکودہ چار چیزوں کی حمت کا تدکرہ: 16/115:5/3اور6/145 آیات مس بھی آپ دکھ گے سے-٥614‏ یں سہے ببودیوں پراهمنے ہرھلکر کے فھکارکرنے والا جافو متام پایا تھاگاۓ اود بجیٹیکریوںکی جرلی کو بھی مم ایا تھا۔بیقزمت اللدکی طرف ےئل تی بلہ ىہ ا نک ال ےگم سے بفادتتی۔ہ٥ہ‏ می ادڈیئشی لام علیہ گی بش کے مقاصریش ے ایک بی مقمدگھی ات ہیں جن کا وہ ائںآبیت ٹل اعلا نگ ۓ ہی ںکہمیں اس لئے بھی یم نکرتہادے پا آیا ہو ںکہ جوچچھہ تم نے انیطرف سےا برا لیا ہے اأُے بذریعہ وی علال قرار دوں۔ زی ظگراسرائیل کی خووساختد حمت دالیانٹ می شال تھا۔ الظفُرانمان اورجانورکے ناشن کو کے ہیں۔ کُل ذیٰ ھف۔جرپنے اود ناشن دالا جانور عراد ہے جھ لک کے نکارکرتا ہے ۔کیوکہ دہج ظفریجنی کمیلی سے اپنے شکار پرغال بآ جا ےاس لئ دہ ذ یی ظفرکہلا جا ے-4/24 مس اق حم علَهم آپاہے۔ بہا اظفرکا ماب اورطااب ہونے کےسمتوں میں استعال ہوا ہے۔اورائاڈدنےحرمت وا یکسٹ میں ذییظفر کاؤکنکی سکیا۔اللد 6٥۸٠9‏ آیت میں فرماتے ہیں فصّل لَكُم مَاحَرْمْ َلَيْكُمِلَامَاضْطُرٍ نم اَی الیڈرے و نیل بیانگر دگی ے(2/173,5/3,6/145,16/115) جو نہ بھی رن تم پتام قرار دیا ےگ ریجبوری کی حالت میں اس ام کویج کھا ھت بو۔ا نآیات کے ہوتے ہوئے کوئی 7 دےلہ ار کی تاب من علال و عم یق لیں ہے۔ ال یکتا یپ غضل (6/11۵) گی ضف ے اور اللر ے فیمژن تولں(۵6۸19) کوکٹاا نے وا ی باتدے-ٹا اس اتیل گی وم سب علال تھا جھ ٹرآن میں علالی ہے۔اس لے ال فراتکہ سے ان با سے آما: میاگیا پچ رٹ کیاگیا کراگرقم تج ہو و نذرات نے کر ۔آبیت کے کمات پر حور فرہایۓے۔ کل الطعَا م کا نٗ جلَا یی اِسْرَا یل ِلَمَا حَوٌمَاِسْرَا ئل علی يہ من قبْلِ نع تل الشو را فا نو اِن تنم صا دقن ٥داد‏ کھا ےکی ہر لے جقرآن میں علال ے وہ تی امراضُ لک بھی علا لی رگر فذرات کے نزول سے پلیہ اسراشُل ریعقوب سلام“ علید) نے چچجھ چزوں کی اپ أ و قوساخھ پابندگا ا ہوڈٹی۔اگرق 2 ہووویشرہ را تک لاو تکرو۔ ا لآمت مہااکرش بے خابت ہوتا ےک یکا خووساخند پابندی ۶ام وعلال می جج تا ہے۔ببددیویں سےقرآن کا مطالبہ فورات لانے کا سے جھ وی شدہ کتاب ےج ُن کے پاس خھیں ہے۔بہڑا خی رس کا مطالم٥لرانوں‏ سے حام و علال کے پارے بی ہوگاکرامےسلمانو! ھا توا با ملقران قرآن ےر آوٗ ہے أُن کا چائز مطالبہ ےہ مان اپتا علال

٦0:/650081ئ۱3٦09‎ اطا٥و:٤٥.٥/‎

علال :رام ق رآ نکی رش میں 229 و ام قرآن سے عابتکر می ۔قرآنن میںاان چار چزوں کے علادہکوئی ےن امنیس ہے۔اودنہ ہی الد نے کی شرکو اس میس مراخحلتکااخقیاردیا ہے۔ارشاورتا لی ےلت لَکُمْ بَهِيْمَة الا نَا م لا ما لی عَليْكُمْعَيَْ مُلّى الصَيْدِ وَالُْح,رُم'ط ان ال َحْكُمْ مَ یی 1 ئارے لے بھیمة الانعام علال لکردئے گئے ںگر و بھیمة الانعام خرن بش علادتکیا گیاے وہ عرام سے تم ف سی جانور کا بھی شر علال کرنے وا نیس ہوکیککہ تم عم سے پاند ×× بلاشہ ار سی 2 دتا ے جو وو اراوہ کرتا ے۔ یمک البھانھم ایت ساس کا سہ مل وغ سے تل اقجامت کنا ماں سے مد وکرناءمشتتہوناء الْےۂ اس ےکتچے میں جس میں قو تیگ یاکی نہ ہو۔ مْٰكم اود ابہامچھی ای سے ہے۔ہجس کےصعنی غی مروف اور ردان کے ہیں۔ع بی لفت کے اختبار سے ماں سے الک اورقو تگورائی رد تام جانورآجاتے ہیں۔انسان اپے عا گے کے چاٹوروں ے وائثف ہوتا ے۔دسرے علاتے کے چانوراس کے لے مبھم ہبوت ہیں اور واثثیتی کک یں ہوئی۔اس رع علاتے میں ماں سے چجدا ہونےوالے چائور اور دوسرے علاتے کے مبھم اور بے زبان انور بھیسمةالانعام مس شال ہیں۔اس میں خلک و ت اور فضائی جانور شال ہیں٭14ہ آبیت محلم میں علال و عم کا بڑا جائح اوزنصل بیان ما اور ال ےت رکےساتھ الدنےصرف جیان ہیی بللہ شی لکبکر یملاع علیہ سے اعلاا نکروایا ہےاوداب ہرم ون ہہ اعلا نکرے پذسنت رسول کا عائل ورنہ سشت اورآیت مم کا انار ے اویگررسول ہے۔سورہ ہر16 آ بی تک ر1166114ما طض فراۓ۔ فَکُلُوا مم رَزفكُمْ الله عَللا میا ز اشْگرُوا ِعْمَتٗ الله ِنْ نتم ِلاۂ تفْثرَْ م ِنْمَّا عَرَمَ عَلَیكُم الْمیَةٌ َالكُم و لَحْم الَْنرِیْروَمَا أُِلَِيْر اللبوج من اضْطرٗ یا ولا غاد فَإ الله فور رَحِْم ,روَا تقُولوْا لاف السَتَکُم الكوِبَ هذَا حَلل' وََهذَاحَرَامٔ لْفرُوْا غَلَی الله |21 طإِنٌ الَذِبْنَ َفْتَروْنَ عَلی الله الّكذِب لا يٰفْلْحُونَ یلال موزوں ہوکھا٤ٗ‏ اںٹں ے ھو بھی اش نت مکو دیا ہے۔ اوران دکیخھتوں کا شگراواکرو گرم خاضص أ کی خلا یکرت ہو۔114 نیقی نتم پہ دہ ادربپتاخون اورخثڑ کاگوشت اورشس نے مےذریج غیر الکو بلندکیاجاۓ حام آرار دیا ہے۔ ہیں جو مور ہو نہ دہ بای ہواورنہ زیاد یکرنے دالا ہو(ووا نک یکھا کنا ہے )١۸73,6۸45(‏ بل ریقیۃ انڈفھور رجیم ہے۔115ئم ان زہانفوں بروں :کتابہوں )یں جھوٹ بیان شکرەکہیہ علالل اود بیترام ہے کت اللپگھوٹگھڑہ۔یقیاا جھ الپ بجھوٹگھتے ہیں۔دہ فلا نیس پائیں گے-116 النعام: ال کاستترنی مادہ لن رم ہے۔ ہس کے نی خوشھال ہونے کے ہیں انم اونٹف کے لے بولا جا:اے۔ عربوں لئے اونٹ ہی خوشھال یکا باعث ہے۔اب پرجافو رکیل بولا جانا ہے۔الانعام جع ہے ۔عربوں کے ہاں جھ انور محروف تھاورووگمروں میں رھت تھے اورحرث مج یکحتقی کےساتھھ جوا نکی شرکیہ واشتگی تھی بقرآن نے اس تا اظہاد کیا سے۔الدنے ان آیات ت کو بھی َهیْمَة ال نام ریف )0٥11031100(‏ اورمعیار کے لے ہیں تی ںکیا_اپزا 68"

٦0:/650081ئ۱3٦09‎ .اطاو٥و:٤ہ.٥/‎

علال :تام قرآ نکی رش میں 230 آیت یش غدمت ے خودفورفرمائے نذا انعام“ و حرث“ حجر“ لا یطعمھا ال من شا ءُ بزعمھم.6/138 نے جاور اورک کھانا مع ہے۔اسےوئی نی ںکھاۓے ما مرج سکو اپنے نظرہے کے مطابق ہم چاہیں گے وہ کھا سا ہے۔اس خووساخت علالل وا مکی پابندی سے الل نے کیا ے۔اللد نے بیمتلہ تو یہاں نھیں بتایاکانعاماں کے ہوتے ہیں اور بھی عة اعم کے ہوتے ہیں۔ 179ر میں نمور بکرسے عارکی لوگو ںکو کالانعام انڈدرنے کہا ہے۔ ماف 7179 آیت ٹل اشا ےی 7 کن یش ل کہ چگاے۔ 5ا٥6‏ شس گدرےکی ال ے۔٥٥5‏ ور7168 میں بندر اورسورکی ثال سے ور وگرکا عقام ےکیاالڈرکہ انعام کے ہار ےم نیس تھا دوکھاس کھانے والاء گال رنے والاء رو معرول والا اوراوشت ھا ے والا ہوتا ہے ۔ ری کا الانعام کے کے بد کن بندر اورسورکی مالس دےکرانٹرس انعامکی وشاحت ریا رے ہیں۔ افلایعقلون ۔اِک دوسرے مقام پپْرایا یاکلون کسماتاکل الانعام 48/12 لو بھی جانورو ںکیطر ںکھاتے ہیں ۔ ہا معلوم ہواکگوشت اور خامات دوفو چچزیل انعام کی خوراک ہیں اور انما نگھی دوفوں تچ زی کھاتا ہے۔برفرایا وارعوا انعامکم 054 اپنے انعامی گرالیٰ کرو اگر وارنوا کا صعنی بنا اورجانا کرس گے فو نہ جنے وانے پچانورشودینودشنل جائیں گے۔عالانلہ گر میں نچرنے دانے جانوریگیر کے جاتے ہیں۔ ارعوا کا ستترٹی مادہ ری ہے۔راجھی* ام فائل ےجنس کے می گرا یممرنے والا ہوتے ہیں۔چذا جرانے ک تی مناسبجیس ہی ںکیوککہ ان کے علادداھی بہت سے پاور رجے جات میں سجن ٹم مرخیاں چھایاں ‏ ساپ اورشیرنھی ہیں ۔ اس طرح وم ترجہ ورست تضصورکیا جاۓ گا۔ج ان تمام جانورو ںکو اپنے احاطبیش لے اورمشاہرائی حقییقت نظ یھ ی1 ۓ ورنابٹدر ےمم او یلم میٹ دارد ہوتا ہے بت رآن کی بن تصرینات سے معلوم ہونا ےکرانعا مکیلن چہ نے گنن اور گا یکر نے والامرود تورورست نییں ے۔ الانعام - لامتھریفک یش ترار دا جا اور کیہ مکی اور فضائی ے2 کاجانور اس میں شا لکیا جاے۔اس اہ گا قرآن نے دوسری مہ بھی استعا لکیاے اور یم کو قرآن اس لف نکی مخت مم یاکرتاہے۔ ماجظہ فرمایے۔ فمَارَحَوْعَاحَق رِقَاتهَا ع یں انہوں نے اس کاخیالکیں کیا جیماکہ ا کے خیال رکنے کا تن ھ-97/27 وَلَاِیْنَ ہم مليهم و هد ہم رَاوْنَ اورجولیک اپ اماموں اور اپنے عہدکی پاسال کرنے وانے ہوتے ہیں-23/8 آیت شس وارعوا می 23/8اور 57/27 آ یا تکی تصرف کے بعد چان اکرناء حقیقت سےنظرسسں جائنے دا ی بات ہے۔ 20/54 آبیت میں کواکے بعد وارگواکا تر بینہ پیا تکرتا ےلرکھانے میں جس طرح خم اپنا خال رت جوا طرح ان چاثورو کا ال رکھواس میں تام جاندرشائل ہیں ۔ دو پاکؤں دانےہ چچار اوس والنےءاُڑنے وا نے اورر گے وا لے ہب ک خیال رک نکی مم ہے۔ چان کا مفبوم لیے سےآبیتکا وم اورڑخ اندایخ ہوجاتا ہے برا ےکا میم مشاہرے کے خلاف ہے رآ لی لفت کےخلاف ہے کیا انڈرکاس جا ناکہانسان کے پا جچرنے والے جانوروں کے علاوہچھی جانور ہہوتے ہیں۔اپی ذائی پندادرناپپندلوسعیار بناکرآیاتکی خایڈتیرکر کے الد کےیل کو محددوک رن ےکیکوشش شکریں-,2/173

٦0:/650081ئ۱3٦09‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علال م رآ نکی رون میں 231 5 64 :53 آیا تک رورے چار رو ںکی مت خابت سے مگ رغی رق لی لین یق رن نہ مات دا لے ت رآ نکی حرمت یمک نن سآ توَقال ال اشَکوا لوم الهُنَا بَا دنہ مِنْ شَيٍ نحْنْ ولا باون َلَاحَرَمَا مِنْ دُونہ مِنْ کلک فَعل الین ہم ہل لی الزٰل ال یلع الم ادیشر کے ہی ںک۔اگراللدچاہتا ہم اور ہمارے ا ءال کے سوا کک غلائی اغیارٹکرتے اود ماس( سابل کے سوا بھی پابندی اخقیاریکرتے۔ا یئم کاردبیان سے چپ کا فروں ن بھی انخنیارکیا تھا میں رسولوں پرلؤ 7 بلاغ کےسواکوئی ذمدداری گیل ے- 16/135 (6/138) فرکودہآی کی رو سے نشین کاکتاب ار عدددکک ربنا پڑا شک لکام ہے۔جبکک و کاب الڈرشس افراطونفبیانہ رن ا یں چین ینعی ب نکیل ہوتا۔ے انی پالأرش ے۔ا س ل گھب ران کی ضرورت یں سے خرن ے طال پل مکو اپنا فریضہ انچام دینے می سی ںکوتای نی ںکرمی ا بے ۔کفایت ٹر ان بی ا ںی زنگی کا اوڑھنا اور کون ہے۔اور بھی مة یں تا مبالقال کیب رساٹ یک یمکشزت اور وسحت کاانگہار ہے۔اس کےساتحدساتھجاندروں کے ہم ہونےکا توریھی موجود ہے۔ا لکا نات می جافورو ںک اتی زیاد ہکرت ہےکم۔انسا نکیل ا نکی پہچان بہت شکل ہے اس لئے این ےآسانی پیداکردی ‏ ےک یرام جا ورکی پپچا نکرو اتی جانوروںکی امم اقام علا لمردئگئی ہیں بہرعال الد نے علال وترام نل کےسا تج دا کرد یاہے۔حالاکنہ 6/148 کی ای کک مآییت ی دام و علا لکیلئ نی 0تيس28: لاس کُْْيم فی اَرْضِ خَللاَِيا 1 یڑا ات النبْطن ط ا لک ذو مھ اےلوگوا زین می جو بای سے ا سس می سےموزوں علا لکھا9 شیطا ن کیو ںک ا جا کرو یقیا وتہارا رآ نکی وج لفاون ے-2/168 لال یبا 2/168 :مرتب نمی ہے۔علا لکیصفتطیب ہے۔اود یہاں طیب کے مم موزوں اور پندکے ہیں۔ معلوم ہوتا ےک علال خی لی بھی ہے۔اورعم بہ لہ زین یں ےکھا و جر عال ہو اورٹُہار یت اور تُہارے اع کے لے موزوں ھو۔ ہیدان فطرت سے ۔مشاہدے سے بات ثابت ےک ایک ت ےس یکا ححت اور مراح)ڑے لے موزوں اور وی ووسرے کے لے غمیرموزوں ہوثی ہے۔اگر چہ علال و گرارۓے ناپٹر ہوئی سے۔اگر علال کے اتحوطیب کا لفظ تن آنا نز برعلال ٹکھانا ڑل اور نکھان ےکی صورت می ںکفر لازم آ۔الڈندنے ہجوت دگا ےک ہرفرداپٹی معن پپنداو رح کیل موزوں خورا ک کا انتا بکرےاور اٹ :ند دمروں پزام آرار ددے۔پڑا ہر علال طعام کو کھانا فیل کی سے اود انی ناپند علال ہے کو ام قرار دینا جائز کیل ہے۔ يَهِيْمَة انام 1اِ؛األْ لكُمْ بَهِيمَةُ الْلعام لا پّلی عَليكُمْ عَيْرَمُجِلی الصَیْدِوَ الم رم إِ الله َعْكُممَايِيْ ٥‏ تک لم علال سے ہیں گر جو تم پر حلاد تکیاگیا سے وہ جانورعلال نی سے تاس کا شار کر کے علا لکرنے وال نہیں بوکیوکہ ت جم کے پابند ہو۔یقیا یا اف دیا ےھ وہ ارادہ گرتا ے۔5/1 بھیمة الانعام جمدہ جن رپ اغان ہے۔انعام کے بیج یں ۔احلت لکم بھیمة الانعام الما یتلٰی عليکم 5/1 انعام کے بی علال سے یئ ہیں گر وق ر آن ٹل بھیمة الانعام لااو تک اگیاے وہ علال یں ےکی تام چاور

٦0:/65 00815۱3٦09 .اطا٥و:٥ہ.٥/‎

علال ونم خ رآ نکی رڈکی یش 2 ک ام ران میں جحلاوت ہی ھی ںکیاگیا وما یعلی قرآلی یا نک تقیقتکیاے۔اتی در ی یاد پداو رایت شی نکرنی ہاو رترام و علال میں مفظاء الم یکوچاننا عقلِ انا یکا اولشن فربیضہے کم کا سرن مادہ بج ے۔ الم ٹھویں بندچزہگوڈااورفی ردان تک کے ہیں. مم دددھ پٹ جافورکے ت کو ا سک ماں سے جداھرنے کے بھی ہودتے ہیں۔ مال سے جداہونے وانے جانورکو ہی کے ہیں۔اس رب ماں سے جدا شہہونے والے چاٹورو ںکینگی علال نرکرن کا تصورق رآن دےرہا ہے۔جو جافورماں سے الک ہوجاۓ ہبی ۔کہلا گا جاندرو کی ز با نی بہوی۔حیوالن خر اط ہوتے ہیں ۔ع بی ادب یی بھی ا سکی تئیہ مو جود ہے۔ نی لام “علیرنے ف مایا ایک مسافرکو حخت پیا ںگ ھی دوگ میں أُتراپانٰ با اوراہرآگیا۔ جب کیا نے کو یھاکہ پیا لک وج یڑ اٹ دہ ہے۔أکی نے سو چاکہیےکتا بھی میری رع پیاسا ہوگا۔دہ ددبارہگموتمیں یس اتا اوراپنا موزہ پانی سےگلرکرم مس چلذکر نے آیااوراس نے کت کوپالٰ پاایا۔ صحاہرن ےج شک ارول اللہ انٗ لنا فی البھائم فقال نعم فی کُلّ ذاتِ کبدِ رطبِ اجر“رواۂ بخاری و مسلم (لی۔اے رپ یس حصردومعلامہاقال اوپین لوخورٹی“ف 73)کما تنتج البهیمۃ* بھی مة (عطکوۃ جلد 1عر یٹ63 ص“ 28 براحق) یس ےکوئی جانوری جافورکو ہنا ہے ۔گویا نے کےاعقبارسے لا ۔تحریف بیطوریٹس خنک و ترکا ہر جانورشائل ہے لپ داب میں ہبہ سے ہکم کاجانورعراد لیاگیا ہے بقرآن می بھی اس لف کے بی یی ہیں۔آل فا مکا ستنرنی مادہ انا مم ہے۔ قو ب'مَا جم“ زم اورآرام دءکپٹڑ ےک کے ہیں ۔دعا می خوشگوارہواک کے ہیں۔الداعمة خوشگوارزن گی گزارنے والی عور تک کے ہیں ۔اپزا خوشگوار خوراک می ںگوشت کاشارہوتا ہے بیفوراک جافوروں سے عاصل ول ے۔اں لے جانورو کو انعامکہا جاتا ہے۔اہذا ٦لاوت‏ شدہتام جا ورکے علادہ تمام چانور الڈنے علال قرار دے دیے ہیں۔جانورو ںک امم اقسام جن کےکہیں نا بھی نآتے ہوں سب علال ہیں ارک ری اورکھانہیں۔ خوروگر ے عارگا لوگوںکو کا لانعام 79 آیت یں ایا ے-7/176 آییت یس اییے لاو ںوکمٹل الکلب؟ہا گیا ہے۔اللرنے کاب نیشن ک ‏ کو انام میں شژائ لکیا سے کیا ادڈدکو معلوم نمی ںک کت عگھائ سکھانے اور گی کمرنے والا چانوریاں- ۵٥‏ میں ے يَأَكُلُوْنَ کَمَا تاکل النْغام وہ چانوروںکی طر حکھاۓے ہیں۔ابانما نکی خوراکں بس فوگوشت اات اورجمادات‌شائل ہیں۔ اذا ہرم کے چانورانعام میں شائ لکرنے پڑہیں گے۔20/54 میں ہے وارعوا انعامکم جس کےکعف ہیں اپنے جانورو کا خیال رگیں۔ یہاں جرانے کا مع کرنا مشاہرات عالم کے خلاف ہے ۔کیوف ریس جرنے دانے جانوروں کےعلادہ جافورکھی ر کے جات ہیں مجن میں اُڑنے والے چاثور اور آلی جانورشال ہیں۔اپزا بھیمة الانعام یس بن یہ بکریی اور فضائی چانور شائل ہیں۔ 2_غَیْرَ مُحِلی الصَیدِ وَانتمْ حو 8/1 : محعلی ام فاعل سے جس کے می علال کرنے والاہوتا سے یڑ مُعلی الیل عرابِ اضائی ے۔اس کا می ہو گا شکار کو تہ علال کرنے والا یا شکار کو نہ جات کرنے والا۔ایمان والے الے جا ور کا شکار کرنے والے نیں ہیں چو حرمت کی لٹ میں ملاوت کیا

٥0001.2۸‏ اما. 300 ای٥00‏ 6او//: ما

علال ورام ق رآ نکی ریش 233 گی ہو_اور وہ جانوریگیجں کے شارکی اسا ئیعلومت جب پابندگا لا دے و انم خرم*“ کا مطلب ے کہ تم اس قافون کے پابند ہو۔الکا عم ہویا اسلائی عرک زی طرف سےکوئی عارشی پابندی ہو-بِايُھَ لاس كُلُوْا ما فی ازض للا اک وکا نذا مات الشْطن پا لم ذو مین "چم تر جم ےاوکوا زشن میں جھ بجی سے یں مس سے علال ج یں اپچھاگ کھا 2 شیطا نک ربروں کی اجاع نکرہ یقینا دہ تھارا قرآکن کی وجہ ےگھلا وشن ے-2/168علال وۃام کاقرآن مم صلی دکرکردیاگیا ےکرجچویھی زن یش پیدا ہونا ہے :حیواناتہ خباجات اورجمادات مل ناودہ چارچچڑوں ے علادہ انمان ہر جزکھاکتا سے بش یکا سے ا سلوکھانے کاطریقہ ٦ت‏ ہو اور ا کیب کیل موزوں اور اس کے ماع کے مطابق ہو۔میوانات ادرنباجات کے بارےکوگی ابہاممنئیں مجن جمادات میں ہم پچھمکڑی اورٹک وغیرہ استعال کرت ہیں۔اب فو لو ےکا بھی کٹل کےذر بی ےگشت بنایا جات ہے۔فولاد کےطور پشثریت میں استعال ہوتاہے حم بی ےک جھبٹجوز نمس پیدا ہوتا ہے علال اورجوتہارے لے موزوں کا2 قُلْ مَلمَ مُهَدَاَكُم ایی بَنهدُوي َو الَعَرمهلَا٥‏ فان مَهدزافلانَنھَة عم را تافآ ال كََبُوا بايتَ للا زم لاجر وَھُمْ برَنهِمْ 2-7 لا اپےگواہ جھ شمادت دی کہ یقیاً ال نےیہ چزیں حام کی ہیں اگر وہ گواتی دے ری تم ون کساتھ گوامی نہ دینا۔ادر ا نکی خاہشات گی اتا شکرنا جنہوں نے جماری پان ںکو ٹا دا تھا ادرجھ وم آخرتکو گھیکئی مات اور دہ اپنےرب کےساتھ برابریکرتے ہیں۔ 150 او او ے۷ الفاظط میں الل کیے بتاک دائی قرآن پپرے مقین کائل سے اعلا نگردے۔الل نے بیقام ترار دا ہے۔اب اللدکے مقالے ری علاہثفتی ہ ارسلو اور افلاطو نکاکوی متا میں ہے۔اگر وہ ترآن ے خلا فشہادت گی دے دیں رای ق ران کو ےک 7 ا ےسا تحشہادت ٹہ دےہاور می انی ان شی ہاں لان ےکی ضریرت ہے۔کیوگکہ دوالنل بیو اوشنق دگمان کا داش ردرے ہیں۔6/145 آبیت میں النے تام چیزوںکی فبرستدی ہے ۔کوگی انے ما نہ مانے برعالی دای ق رآ نکو اعلا نکرنا ہے۔جھ ای وی سے اس ںان چار چزوں ے علادکرلٰ تا میں ہے۔معاشرے میں بد دوری پراتو ںکو روک کپ بھی یل استعال 1 ہے۔جعن برائتو ںکو معاشرہ شی مادرکی رح ےہ جار سے اود ا سک عم تک پرواکے بخیرزندگی گزار رہ ے۔اب ان نرکوروکھانے والی یز و ںکی حمت کے علادہ چہاں عم ت کا کل استعال ہوا وہ مندرجرذیلل ہے۔ ماحطافرمایے۔ قُل تعَالواََل مَاحَوم رَلّكُمْ عَلَيْكُم الا شر گوا بہ شَْمَا وَبلَالِدیِْ ِخُساا کول تو الَادَكُمْ من ِثلاق“نَحُنْ نَرْزّكُمْ و يّهُمْ ك وا تَقرَُوا الْواجشش مَا ظُه>رمنهَا اَی ٤‏ ول ترافس اَی حَوَم الله لا بالحَق "ذلِكُمْ وَضکم با لَلكُمْ َعفلو پچ وا تشرَوامال الیم إلا لی هی اَسَنْ عی بعد كوَأَؤکُو الْكْل وَالبيزان بلط * لا کل نَفْسُا لامک کوِذا نم اخیلز زز کائ ذافزی کڑ بعد اللہ از کم شک بو الم کرن ہی ترجمہ:اعلان کروکہ آ7 میق مکو اللکا فرمان ناو لکتہارے ربانےتم پکیا پابندیاں اتی ہیں برکہ أئس کےساتکوئی شریک

رس بت

٦0:/650081ئ1300‎ اطا٥و:٤.٥/‎

علالی وا م ق رآ نکی ری بش 24 نہ بنا اور والد بن کے س ات احماا نکرو۔ اپ 0 کرو بمکمیں اورخائص ا نکواھی عطا کک سی کے۔ فاشکھلی ہوا تھی ہو اس سےقریبکھی نہ پچھنا۔جس جا نکوادنرنےحرمت دی ہو ےی شکر گر الد کے تھے مطابشی۔ یہ مرکورہ اعَام یں اس نے ہیں ق رن کےذر بے دیے ہیں امیر ےل مبجھ چاوٗ گے۔-436(151) ینیم کے .ال حیقریبٹچھی نہ جاؤگر ایی طریے کےساتھ جو نکارانہ ہو بیہا ںک کک دہ اپنی جوا یکو عم جائۓے۔ اورناپ نول انصاف کےساتھ رکرو میا کو ای طافت ےزیادہ ذمدداریڈال رات ۔اورج تھی بات کرو صلی با تکرواگر چہ ووثرایت والا ہٍو-اور الد کےع بد کے مطا شی عہدر پپراکرو۔ی ماورہ اکا مکو الد نے ا سکاب کےذرہیجدیے ہیں أُمیر ےکن شصیحعت وص لکرو ے6/152۔ 6/152,151 آیت مل چند اکامات کا انما نکوپابند بنایا اوران اکا مکوترمتکی فبرست مس داشل کیا اور 6/153 آیت مل ارشاد ریا وَاَؤهلَا اط ماع کا نیو لق بکم ع مبنلہ* ذلٹھم ہم بہ کم کو 8 اور یقن بی میرا سیدھا راستنہ ہے۔ یں ای انا غکرد اوردوسرے راستو ںکی اتا شیکرو۔ پھر وبقم کواس راہ سے ال کک دیکی گے۔ی ادن تم کو اںقرآن کیساتمعم دیا ہے کت نافرانی سے نے جا6/153-2 بہردائی قرآن کا اعلان سے اور بی سحت رسول ہے۔ نی رمتبرل پابندیاں ج ا شیرف نازل ونس ہیں انکی اتا ہی مراسیدھا راستہ ہے۔اں کے سوا دوسرے راستو کی اتاع قرآن سے السکر دےگی۔ 7/33آبیت میںعمت کا عم مماظہ فرب یۓے۔ ِمَاعَرم ری اش مَاظَر مه وَمَابََن لالم وَالغی بر العَق و آ تُشْرِکوا باللَِمَالمْ بل بہ ملظ و تُزرعلی الله الا فو یھ کہردہ میرے رب نے ظاہر اورچی ہوئی فواتض کوترام برایا ےاوراٹم اور ناطن بضاوت کو اور ہے کراللکا شریکتھپراؤ جس کے بارے اللدنےکوگی دثل ناز لیو کی اور پیم ال یاڑی ہاج سکہو جن کا ہیں عم یں ہے۔ 33اس آیت میں الل نے الما کےحصرکے ساتھ مجن نزو ںکوترام تھبرااسے دہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (ا) الْفوَاجش مَا ظَ مِننھا وَغابکن ‏ اہر اور ہبی ہوگی نا فرانی کو حام تبرایا ے۔ (:) لالم سے ماد بھی اللد کی افرمنی سے )۳(‏ الیفی بر الع ناصم بغاوت کو عام فظبراا ہے۔یہ بھی الد کی افرا ی ے۔

)٥(‏ آن تُفْرکُوا باللهِمَالم ول بہ مُمطنا ال کے ساتھ شریک رت ور از لیک یگویاکہ الڈری برابری ذات اور اعکام کے جانے سےکرنا۔بہ اللہ گا نافراٹیے۔ () ان تَفولواعلی اللہ عالا مو بے کہ تم الد بائی بائیں کو جس کا ںیم نہیں ے۔ بی اللہ پر افزا باند نے کے جالے سے ہے۔یہ ھی اللہ کی نا فرالی ے۔ الْفوَاحش قُ الما حَوم ری الَْوَاجش مَا ظُهَر مِنهَا کہددمیرےرب نے ظاہر اورٹچی ہوک وا ایض کوۃامفبریا ے733 کا روا الزتی اه کا فَاحضه و سا سب,چ اورزنا قرب تہ جا یقیا بینا فی ہے۔اوربہت نُراراست ے-17/32

٦0:/6560081ئ1300‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علا ورام قرآ نکی رش میں 235

َلَاقربُوا الْفوَاحش او لاوَا کک اشک ہو ما بی ہو اس سیقریب بھی نہ 6/151 اللھاحش.القاجش کے تفع بلق اور بہت ٹیل کے ہوتے ہیں ۔تول اتل یں حد ےک رنے وانےکو اش کے میں اور ال مویثف اج ٴے۔الْقواجش زنا حول یکیطرف نے جانے دالا ماحول اورعالات اورزنا شوئ یکی طرف نے جانے والی ہرقرکت شٹ ا َاضة عرکت کہلا ےی ۔حخیقت بی ےک یتیل میس نھی س۲ بیلہ آکھ ہے کے تی ہے بی ہا کی میس علاقجات ہوئی ہے۔بھ رہ م نمی ہوئی ہے کچ رف رفنۃزنا تک باتکل جال ہے ف رآ ری 17/32 آآیت میں زنا خو یک میادیا تک کَاجض مک تکتا ےاور سَاء سَبیّلاکتا سے ناش یکھی ہدیا بی ہوأس کےقر ی بکبھی نہ بگنا۔ 6/151 - 4/15 ایت می الم ود سکیل ال کاکلام ملاظ فا یی اذا بن يَسَيِكُمسَْنھڈا َلَْھی ار بنكُم٥‏ فَهِذرا بکرم فی ات عَنيتَوَفهْ مث َيَجْعَل الله اي سَِل چ تہاری معورنوں میں ےجو و مرکوں کی 27 ہوں یں ان سےخلاف اپ یں ے چارگواہ کر لو پھر مرا نے یز تن ین رک رجات کی وت آمیز مزا إن کو کاللی انسان بنا دے اور اللہ ان کے سے کوگ راہ پیرگر دے-15 ای أِْن الفاحشة مِن يِسآيکم4/15...۰: لی عودنوں کے لے تع کا صیضہ ہے ھوینوں تہاریعورتاں یں سے جویھی فاشی بپھیلانے کے لے با کی مرکب ہوں .مم کے جنتصوں کو ھی جن رشختوں سے نا رکھے کیا اجازتگی(۵۸01)۔ھ عورہیں کم کےیی جےزمانہ جاللیتکی مائند ا ےگھمروں ے ار أڑعتیوں ے پا ہیں۔ہیگورٹش اش یکی عرگب ہیں۔انکی ہے پردآوادگی یسل سو سک میس چادگراہ مل جاکیں نے ان عورتوں کو گھرییں تیدکی ذلتآمیز مزا دی جاےۓ۔یہا لک ککہ ہے ذالت آمیز مزا (لموۓ) آئیں کال انان بتا دے (طكھئی)۔کہ وہ اس فاشی سے باذآجائمیں اورشرافتکی چادر یجن عاب اور اوڑھخفیاں ےر باہر یں ججاب یی بردہ اسلابی معاشش رک بیچان ہے۔٭دتادد 4/15 آبیتکی روسے فأاشی سے عاد زناکی مبادیات ہیں۔تں می نظ رین ملاناء ہنگھوں می ںآکھ ڈا لکر با تکرنہ ملاقاٹں :ہم آغوشیاں اور دوسرے زناشوئی کےماحول اور سب عالات شائل ہیں جھ زنا کے لے مد و معاون ہو کت ہیں وہ سب الْقَاجش کے زمرے میں میں گے-24/19

آیت ا ں سک میں بڑی نشابِ راہ ہےملا نف رما یے۔ ا ابر رن أنْتیِیٔع الْفاحِشَةُ فی الین نوا لَهمْ غاب ایْمُفی اڈ اَل الله یکم نم لام8 بے کک جھ لوک ابمان لانے والوں میں ععالی کی رس وف ہیں ا نکیل دددناک عذاب سے دنا میس اور آخرت میں بھی یقین اشجامتا سے اور تم نی جاتۓ-24/19 کہ یت میں ٹاش یی اشاعت کت روآ دی گی ہے۔چجا ئگ دی بش فاشی کے فروغ کے لے ینار اوربڑے بڑےاجلاں ہو رسے ہیں تی پرفاشیکی اشاعت کا اتظام ڈرامو ںکیصورت مم سکیاجاتا سے لم ازڈسٹری میں بے پر دگی اور بے حیائی کے پارڈ نڈڑرہیے جات ہیں لوط اشن اوراواروں یس کورنو ں کا مردوں کے شاتہ بشثانہ

٦0:/650081ئ13009‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علای ونام خ رآ نکی رڈ یش 236 باب کےکامکرنا قرنی ننظ رک مکسرخلاف ورزی ہے مکودہ اوارے زنا و یکین مبادیات اور ڈاشی کا اشاعت کے لے ماحول اورحالات پیداکرد ہے ہیں۔اسلائی ریاست شل ای اداروں پہ پابندیی ہوگی جھ ای کی اشاعت کے مرکگب ہوں گے۔ یہ باتگھگ کسی دی لکی متا نیس ہےاخبارپڑ ھن والا ہرآدٹی ا سے باخجر ہ ےک ہج مالک ش بے قابانعطرززندگ مرو پہ سے وہاں رضامندی سے زکرنے والوںکو حفظ لگیا ہے۔ق رن ا کی اشاعت پر بھی پاند گا اما ہے ز نار نے والو ںلواوڑوں یسا دا ے-24/2 دنیاش نا پت کا بیگ رون دردنا اک عذابکی شحل ایارک رگیا ہے جولیک ا عذاب سے نکنا جا جے ہیں نکویگ یکوئی راہ نظرڑیس ا کہ دہ کیسے اس عذاب سے چھنکارا عاص ل۷ گت ہیں۔جب دا نت رآن سے خا ی سے قذاس عزاب سے ا“ لنامضکل بی نہیں بئان ہے۔گورٹوں کا دائر ہکا رچادرادد ارد وارگاے باہریل ہے۔ارشاد بای تما یٰ ڑا وا ہےسلاظف اي وَفَرْنَ فی لگن لا تَبرجْنَ تع اَاولة ال رای السُلوة رین الژكره اي اللََ رو ٭إلَّا الہ يْذهبَ عَنکُم اجس اَل لیب ینم پاچ اپ ےگھروں میں وقارسے رہہ اورسابقرددرحابلیت کیطرح اغیراڑھنیوں کےجسما ٰاعضا گے نہ رف ا ری اصھی مم کرو اور دہروں م7 ء4 نس کروی اش لا کے پغام(65/10) کےذر یج اطامح تکرو- ا اشچابتا ےے لاب یق ے پلیری گیا دور(5/6,41)ککرے۔و ہیں پا کر ےجیا الہ پا کر نے کا 7ے-33/33 َقَرن8383 ز۷6 خیاد سرت مادہ وقر ہے نون نمائی ہے۔ہقار ےگھروں یش رب کین ہے۔ تمرجنَ 93/33-۔ب رن جیادکی سرن مادہ ہے۔اس کےسعفی بلندہونے اورظاہر ہونے کے ہوتے ہیں۔ وَج کے کسی نٹ اکرناء اہ رکرناءآ راس ہوکرنلناکپڑروں ے با ٦آ‏ چانا اوراوڑھنی لے اکنا .نزو لق رن سے پیل بے پہدگی کادواجع تھا قرآن بے پردگی کو علعال قرار دےکرجودقاں پر پردہ داری اور أوڑضیاں نےکرگھمروں سے لے گاپاندک لگا ا سے نمو ودہ تل باقع وور چھ وت الیم ےآشانیہیں بے پہدگی اورگوروں کے گے پن اور بے جات یکا جد۔ ریشن خیالْ قرار دے را ہے۔جب معاشرہ اس حدفکگراہ ہوجا کہ جہالت ریشن خالی اورانھرےلو مو رک لی جاے ا یے مواٹروں کل ءذاپ ایی وکیر کے وا یں ہہوتا۔ برح _ تہ ستونء ینار اورکوندککجے ہیں۔ تبرغ کے بنا پردے اور بنا أوڑعنی لۓگحم ےکنا کے ہیں ۔ق رآنن نےعورت کے لے کا مر ےکا حدود مقررکر دک می ںکہ دہ چادر اورچاردباری کے حفظا میں ہر کا کر ہے۔جہاں اں رود ے تچاوز ہوگا دہا لگورت ک ونفاریں بللہ ایک شوٹیں اوراشچارے زیادہ ای رر دقعان ہے .حور تکا زیادہ 7 معاشرے می مہ یکردار ہے ۔ بیگردار جہا بھی ہے وہاں قرآلی ننطلظر سے ور تک فو ین ہے۔عورتکی بای اور سے ۓؤۓ نکوکوئ یکھی ادارہ ٦1‏ راڈلٹگی مشہور یکیل خر بد لت ہے ف رآالن ہنس نےعورت ک وقارقّابء چادر ادرچار دیوار یکو قراردیا ہے جوکورت اس عدودسے باہرلگ لآکی سے دوق رآ نکی نظریٹس بے وقارادرمنڈی میس کے دای ایک پراڈکٹ کی ے۔ال کی عدود سے پاہر گل رس رات زادق والامقام فان ین لان

٦0:/65 0081513009 اطاو٥و:٤٥.٥/‎

علال ورام قرآ نکی رشن میں 27 ماڈ رن سوسائی مس بےحیاکی :فا اریت و مضزاتکانشا ن مھا جانا ہے۔ابذا أ تی ق رآن ےکیا واسطہ قرآنی اسام ونظروں سے اویل ہو کے ہیں۔اس کا تتیہ معاشرہ ہلت را ہےسمان سے تمرلئل جانے وا سے کلڑنے کی ا مر سے۔وںی کے داڑے مُلآنا ضروری ہرد ا ظرت ود نے مارے ا وگ یکردہ ضالط کے وائڑے میں رہ کرکریں۔انمان گیآزادیی کا با و یکی پابندیویں کے ساتھ وابستۃ ہے ہو ںکو تن رانا ادر ٹیا ی کا عحل زناشوئیکی شردعات ہیں۔ا سک پابندیی فی ہے ۔تہارے ذہنوںکی صفائی اللد کے سوا کوئی یس جانا۔انان ایک دسرے کے خ ظاہری امال ہی سے پاکیزگی کا اندازہ لگا سکتا ہے۔اپزا اللہ یا عدود کو توزکرسواۓ فماد ککوئی چک نئیں۔ یبال اورفاشیکوگودتوں کیآزاد یکا نام دیناقرآن کےسراسرغلاف سے مچلہ قرآن فاٹی پر پاندی گا ے۔الْعمْو و الْمْی تام ہے۔لاظفرباجۓ یَسنلوَک غز الْحمرِوَلمْير 2 فُل یما ام کو ماع للٰاسذ وَاِلمكاكير بن ما نی اورج ٤ے‏ کے بارے پوت ہی ںکہہ دو ان من بہت ؛ڈاگناہ ے(7/33) لین کاروباری مخحمیش لوگوں کے لے ہہ فائدہ مند سے اور اس کا گناہ اس کے لغم سے بڑا ے-2/219 امو وَالمٍيس 2/219 مہ دفدرکمات الف لام مع ذس شرد ہوتے ہیں۔خمرنمیرشدہ تے کوکتے یں اور میسر ہر جھ آسا ی سے گل جائے۔مارا مشاہدہ سے کہ نہ ذ فیرشدہ ے حام سے اور نہ تا ہر آسا ی سے حے والی لے ام ہے یوکہ بم غیرشدہ اشیاء کھات ہیں اور والدین کیطرف سے بہت کا یں میں آسانی سے مل جانی ہیں۔اللد کی طرف سے وراخت کا مانون اخرمعحت کے بڑی آسائی ے بت کی چیزیں مارے نام فک دنا ہے۔لذا مادے کے ببیادئیسع کی وجہ سے ہر لے و حرمت میں شال کر قرآنی تلیم سے مطابق نہیں ے۔ لہا الف لام صعرفہ افر کو صرف میڈ یکل نشی عحمہ صحت کی طرف سے جار یشرہ خیات 1 لے کک رود رفھناے اش آوراشیاء 2 اردرے تی نصلہ صمف کے وائرہ انخقیار مش نے ہے کو وہ نشآوراشیاء 1 لٹ شیںوررج کر دے وہ اھ رکہاا ۓ ١‏ گی ای کو ٰ2 تحریف ج ےکی معروف شکلوںکک مدود رکھتا ے۔ اللہ نےان دوفو کو ام“ کبیرڈرمایا ہے۔7/33 میں الم“ کو حرام قرار ىا ے-90ا5 ٹس الفرادر یم رکو رجس* اللد نے فرمایا سے 7 رای سے فاجعنبوہ یں ارت ے وور رہو۔ لپزا اش یکتاب سے اان دووںکی مات ے۔ شا ںکیلئ من ر شتوںی مت دی لالہ آرا ےب نا کے لح رات ولا نوا ما نَكَخ ابَارکُم الیسَاء الا ماف لف “ان کا فاحفة و ما2 وَسَاءَ سَبِْلا 1 خُر عَليکم اود موم زآخو کم کم زخلشکم ون لاج زگ الب رَأئهنْكم لمکم رَََكميَارمَاعة ز أئہٹ بََاِكُم وَرباينکُم الٛیٰ فی مُمٰورِكُمْ بَْيْسايكُم ای لم بهؤ فی لم َکونوا لم بقل جَُاحعَليكمٰ وَعَاقولْ بِكم لد بن سکم وَآن تَجْمَعَوْاىَیْنَ الاختْن لا مَا قد سَلَفَ٣إنٌ‏ الله کا خکرا مم ازلخضٹ بن ایْمَاو نا لگ امم کب اللہ عَليكم َال لكم مارآ ذلِكم ا برا بانوَاِكُم تی فََفسیر*424

٥05001. 0/‏ اما. 00 ای٥00‏ 6ا6//: ما

علالی ورام قرآ نکی رشن بش 28

تر ہمہ :اورقم اج شکرو جن سےتہارے بڑوں ( ہچ اورماموں 2/133)نے یا ںکیا نھاکمر جوگزر چنا ے سے ربےدد۔الی اکر یقیا فاشی ہے اور الد کے ہاں شض ےک بات ے۔اور بہت تک راہ ے۔ 22م پہعزام کر د گن ہی تہاری مانئیں اورتہاری بیٹیاں اورتہار ینس اورتہاری بپچھو پھیاں اد رتہاری خا ایل اور بھاگ یکی بٹیاں اورم نکی بٹیاں ادرتمہاریی مائمیں جنہوں نے ت مک دودھ پلایا سے اورتہارگی رضاگی یئل اورتمہاارکی بید یو ںکی مائمیں ادرتہاری بیو یو ںکی بٹیاں جوقہارےگھروں میس بن دالیاں ہیں جن بیو ے تھارا زن و شوہر کاتعلق ہو چا ے۔اگر ان سے تمارازن و شوہرک ہضو تلق نہیں ہوا تھا نے پھر ان کی مٹیوں سےا کمرنے نپ کوگی حرج میں ہے۔اورتھارۓعلی بیو ںکی یویال اور دو و ں کا اجقائی ہا ں بھی حا قراردیاگیا سے گر جھ ماضی میں ہو چا سے أسے رب دو۔یقیۃ اللد خور سے ریم ہے۔ 23 اور اح شددعورتی بھی عرام میںگمر جو بافر شوہر بچھوڑکر تہارے مامت 1 گی یں أن سے اع جا ہے۔بےہ الد کا اون خ بذرشل ہے۔ )٤٦۷10(‏ اور جھ نمکورہ بالا کے ا ہیں ان سے تھارا ماج جات سے ہہ کہ ئم اپے مال کے ذرہییے معائدہ ما گا پامندیی ٹش پاک داشن بنوء برکا رگ یکر نے دالا تہ ..4/24

یو کی مت ام عِلَة المھُرِعَِْة اللہ الَاعَشَْ هر فی کنب الله وم خَلَق السُموتِ وَالرْض بِنھا ارَقَة' وط ٹیک لی ایم ٥لَلَتَعْبلر‏ فہِ اکم َكَاِراالنِْیین اه كُمَايَيلرنكُمْ کا" وَعْلموا آؤ اللَ 7 عم بے گنک الل کے ہا ںکاتائی تاب میں جس دن سے اُسینے حموات و ارت پیدا کے ہیں۔ بیو ںکی تحداد بارہ سے جن میں چارممت دالے ہیں۔بہ الل کیطرف سے ایک 72 ادن ے۔ میں ت ان ممڑوں میں نک کر ے ا اوھ 2:7 گرو(2/217)اور مشرکین سے مم ب لڑوچے وو سپ ۸ حم سےلڑتے ہیں اورچان لف کی نافر رای سے گے والوں کے ات ہے-9/3 رآ وو اَی ابو لین ۵ فو فی رض أرََةَامْر لزا اه مج ُفجزی الو اللَمُحُزی الکفرِیَ ٥‏ ََفَان' ...×" وم لق اللكُبرِاؤ ال بر“ ئن مرک َرَسُولَه فإِن تدم لهْوََیْر' کم وَانْ یمم فَاغْلموَاكُمْ غْرُْْجزی الله و بَقرِلِی كفروا بقذاب ان٥“‏ جمہ: اور اس کے رسول(عرکزی اتھارٹ )کی طرف ےعشین اہوصہ اعلا نے جن ے تم مع در گے تے۔ 1 ان ےکہہ دو ںام زین یں چارماہ پل پھر اواورجان لو یی تم الک بے ہج ںکرنے وا لیس ہو اور املدا ےکن کا فروںکو زئمل وخوارکرنے الا ہے2 اللہ اور کےرسول(مر نکی طرف سےتام لوگو ںکی اطلا کیل ایی سال ن انا کچ وفقت ایک اعلان جج اد اور ا کےرسول کیطرف سے عپ نما ن مشرکوں سے برا رٰے۔ ہہ دواگرتخم سی سے بک رلوق موی تہارے لے پر ہے۔اگرتم الف کرو گے جا ن لو یقن تم ادڈرکوعا ہنی کر ست اور کاھروں

٦0:/650081ئ۱3٦09‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علال ورام قرآ نکی رشن میں 29 کو درد ناک سزاکی بثارت ا دو۔9/3 تلیم سالانہ ایشماع کےوقت اسلائیکلوس تک طرف سے خارجہ پالی ک اعلان ہے ۔ جن مش رین نے ماد اٹ نکی غلاف ورڑیکی ے۔آن سےا بمع رکھلا اعطان نک ے۔اَلّْحَج اکر کی اصطلاج گر ےکا تورٹھی وانٌ ہوا ےکلہ میسالاطہ انشاغ کےعلادہ تچھوئے ایشاع ہیں اورکوگی ہگائی اورانظرادی اجلا بھی ہوکتا ہے_ان تام اجلا س کا تلق مرکزی محیرترام سے ہے۔ جہاں نی موجود ہوتا سے پا اس کے بعد أم تمس کا عرکڑی ایڈرءامام یا غلیذ ۷ج د بوگا۔وَاَذنْ فی النَاسِ بالْحَج اٹک 22127 اور لوگوں مل سالا نہ ایشا کا اعلانگردہ ددتیرے پا سآتیں گے ۔بہ ابرا می سلام“علیلو ای طرف سم ہےکہاعلا نک ولوگ تیرے پا ںآ میں ۔عابت ہواکہ جہاں أمت مل کا عرکزی لیڈرے د:ہال ئ یسالان اجتاً ہو گا۔اب ہہ الْححج الب سح نوک شس ور ےکیوککہ میاسلام علیہ بجر تک/ر کے اپنا ایک الگ ھرکز بنا گے ہیں او رام مشرکین سے مین کے بد لےھممت والا ہین ےکا مطلب بر ےکہ اگرؤشن اس می بیس جک سےگر بے کر ےو پچھراس می ےکا ار اقم پرلازم ہے ۔ک یکم مات قصاصی ہیں کا مطلب می یر ےکا نکابدلہ ہے۔ 2/217 عم ہ ےکہ ان گویخوں یس جن کفکرنا ہت بد امگناہ ہے ۔ 9/36 یس ہے ۔الللد نے بادہ مین بنائۓ ہیں جن یں چا رحرمت وا لے مقر ٤‏ ہیں ۔ 9/2 می ار الاک کے دن معائقدواش نک خلاف ورز یکر نے والے “شرکوں سے جبے ری یکا اعلان ہے۔اودا نکوچا رم ےکی مبلت ہے ۔ 9/5 ٹس ےکہ جب چار می گر جاقیں فان سے جن گفکرد۔ 9/36 یں الد نے ا سکو ای کم قافو ن قراردیا ہے 9/37 یس ےکا سکھکم قافو نک وپھول کفرمی ز یادی کا سبب ہے۔ان تھا مآیات کے مطابی ثابت ہوتا ے مسا لکاعل جن کنییں ہے ۔ مرائلکاعل نیل دقال کے ذریے نرہ یآ زادی میس چ ر سے اضیران و نی کوک سا اکر نے من نے کر رق کت وت بن دای کت کک زونہ کمرے۔دوسراا نآ بات سے خابت ہوتا ےک محائدہ اش کر ن ےکاکوگی وقت نیل سے بلیان ما مد مضورغ کرنڑے کے اعلان سے نے کی ثایت ہوتا ہ ےکہ یہ مع ملرسالا نہاقاع سے پیل بج ٹکرنے کے بعد پایا ےکراب بیمش رکیلن امن کے معائمد ےکی باد بارخلاف درز یکر تے ہیں لرااب اع سے ام نکا معائندہ برق ارنیں روستا۔اورسالانہ ایح کے دوران ان سے ہے زار یکا اعلا نعلوس تک طرف سے ہے۔ائی دن سے لگا ار جار مین ےکی مبلت ہے ۔سالا ناجنا کا تارب کا اعلان اللرکی طرف نہیں ہے۔ بیقلوم تکیطرف سے ہے ذ کی ار سال ناجشا کا مینہ سے حرمت وانے نو کا ار یہاں سے رو ہوگا۔ اس ط رح مت دا لے مین 7 زم صقراور رگ الاڈ لک لایس گے_سورۃ بر9 ک یآ ی نہر کے مطالع سے بی بات خابت ہو لی ےکم سمل لگا جار چا ریو کی مبلت ہے ۔ج بکرردایت می ذىی قد ذئی ازم اورر جب ہے جو الل کی خشاء لاف ہیں ۔اپٹدنے بڑے دض الفاظطا جس علت وم تکی وضاح ت ت ران می لکردی ہے ۔ بیگھی داش کرد یا ےک علال ورام میں ق رآن کے علادہوکوئی تار ٹ ینیل ہے ۔ اب یک نقطہ گیا ودضاحت ضروریی ہے۔ عامطور پر خیا لکیاجا تا ےک جس نے کےساتحع تا مکالف ظط ددی تام ہے بے ئنک اس

٦0:/650081ئا3009‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎

علالی وترا م قرآ نکی رشن میں 240 شسکوگی ہم ک یں ےکرد٥7ام‏ ہے را مکی للفت میں دو کے اور پا بندی لگانے کےسعن بھی شائل ہیں ۔ق رآنن نے جن جن کیا موں تی خکرد یا دوس بقرمت کے دائ ے می ںآتے ہیں شل فربايا_وَاعتَصسمُوا بِعَبْلِ الله جَمِیْمَا ولا رک وااورسب اشک ری( خ٢‏ رآن ) کے سا تح مضبوڑگی سے جڑ جا 2 اورق رآن سے الک نہ وا6/159(3/103) بے بات اتی واج ےکر خیب لکی ضرورتنجیں ے .تق رآ نکواتی مضبنھی سے پل اک تہارا ق ران سذ را سا بھی الگ رہنا ام ہے۔ جواس سے الگ ہوا لام “علی کا أ س ےکوکی نیس ہے۔آ یت لا ظفراۓے ان الَذِیْنْ فَرَفُوْا دِینَهُم وُکاٹوا شیَغَا نی تیران ےکوگ ٥نی‏ ہے وقی ا نکا مھا لہ ری طر فپچھوڑ دو ۔ پچھروہی ا نکوبنا ت ۓگا جو ہکام کرت رس جے۔159 9 آءتک6/15566/141 آ بات کے ننا ظ ریس رک کرو روک رک میں تذبات داش ہو گا ہق ران سے الک ہونے کاصاف مطلب بیو ےکی ق مکی دییل دب پان کے جوا لے پچھو کر رق رآ نکی اتا حکر نا قرآن سے ملح دگی سے متراوف ہے۔ جو لوک ق رن سے ہہ ٹفکرمعاشر ےکی اشیر باد حاص لک نے کے لے ق رآ نکو پان بنانے پر گے ہو ہیں۔ بی محزرت س ےکہنا پٹ تا س ےکدد دق رآآن سے ہہٹ پیے ہیں ان کے لے ق رن ای کیل تھا تھے سے زیاد ہکوکی ابی تک رکتا ا نکوشا یر معلو میں کی د۱ف ر ان سے دورکس مقام پک ے ہیں ۔ اس مل ےق رآ نکوکا فی او مفضل مات دانے نما ص طور پہ اور ہا قیو ںکوگموئی طور پفو رکرنا ےکق ران مان دالےنذ ایک جماععت ہو تے ہیں ا نک یکوکی الو ز یش نکی ہوٹی نے پھر تق من مانۓ والوں کےا تفر تے اوروعھڑے بند یا ںکیوں ہیں ۔ت رآ نکا فیصلہ لا حظہفر ما ئے ۔ کان السا اه ود قف َث الله تبقرِين تر“ زَانزل عم لب بالْعَقِِعُکمَْن الس لِم مر مامت یه لا لی رر :زی َء نْيَم لٹ بَي بھی لھلی الله لین ار ما عفر یه بن الَقِ باأنہ الله يَهُدِیُ مَنْ بُمَاء السی ساط ممیم تک جھمہزسب انسافو لکا ایک کی دبین ہے(یاسب انسان ایک ہی جماعت ہیں )۔(21/92) میں الشدنے تام نیو ںکو اس دی ن کا مبشرومنزر بن اک ربج تھاادرآن کے سا تح کاب داحدسا تن ء۶ کے ورمیان جس میں وہ اختلا فکرتے تھے اس میں ان لوگوں نے بی اختلا فکیا ج نکر ہتناب دب گنی یآ یں یں ضدکی وجہ سے اس کے بعرکہ ان کے پاس وا عم ؟ کا تھا۔ یں الد نے مان وا لو ںکوحد ایت دک اس ل ےک رانہوں نے اس کےعم کے مطا بجی سے اخنلا نی سکیا۔ بیقن الد أ سے بی ہرابیت د تاے جوصرا ینف مکی طر فآ نا چابتاہو- 2/213 ال یکنا بکا فیصل ےک دانع داائ لآ نے کے بعداخخلا فک گناک کئیس ہوتی لین لوگ بَغا ہكم یں میں ضرک وج سے اتا فک تے ہیں ۔کناب کے نز و لکا مقصرد بی انسانوں کے اختا فکا فیصلہ/ردے۔ جولو ککتاب الد کے شی ہکونہ انی اختلا ف کی دور ہوسا ہے۔اہرا جز بات ء انابہسق شخصحیت پرستقی اورفرقہ یہی وظیہرہنے انسانو لکوضدیینادیاے-

٦0:/650081ئ۱3009‎ اطا٥و:٤‎ ۱. ٥/

علال ورام قرآ نکی رشن بش 241 انما نکا برکردارق رآ ناٹھی بش رکاوٹ بم نگیا ہے ۔ لن اضردرکی ہےکہاان تھام چیزوں سے ذ ہن پا کر می گا رق رآ نک اٹم کا امکان ہے ورنہاختلاف ہی اختلاف ہے سر فآخ ‏ سی ےکہ الد کےمرامم وعلا یکا مت سی فردباقو مکی پینداورنا پند کے معیار سے بالات ہے۔اس سل ۓکوگی فردیاقوم اپٹی نابپن دک دوسرک قو مکی پبند یدہ کوترا مقر ارد ےکر شریجت ساز بی نکرالو ہی تکا متقام اخقیار نکر ے ۔ الد کے خر اب اور ہوم ساب کے مماہے سے بے ۔ق رآ نکی اتا حر نے والے کی حیشیت سے علال وت ا مکا متوتف ق رآ نی آ بات سے وائٌ کیا ہے۔ بیمتوقف دوٹوک اورفلسفیانہ بی گیوں ے پالنل پاک ہے ۔عصرف اہگارااس وجہ سے بور ا ےکبق رآآن ہا رے ھا نکی تر جما نی نی ںکرر ہا۔ اکا دبین بوتیورسل ہے یہ کی فرد یا قو مکی کیب تنجیں ہے۔ ب یسب خطوں اورقو مو ںکو أئة و اج٤‏ بنانے کے لے نازل ہواہے ۔کتاب الد شب رجا خبدار ہے ۔کوکی مانے با نہ مانے بین اپ مہ یو نیورسل بے ہے ۔ جوا سے قجو لہ ےگا دی تن کا راستہ ات ےگا اں کےسواہرفرد نیک جا ےگا او ینعم رس ہوگا-۔

1 َ‫ ت َ‫ ۔ ط2 ا وا ت008 , ثدے۔ ہدھھ۶و۔ بن الَذِیٰ بِیَّدم مَلَکوٴث کل شیٗ؟ و اليْهِ تَرْجَعُونَ

٦0:/6560081ئ13009‎ اطا٥و:٤ہ.٥/‎